1

بگ بیش کو بڑا دھچکا، کرکٹ آسٹریلیا لیگ کی نجکاری میں ناکام

بگ بیش کو بڑا دھچکا، کرکٹ آسٹریلیا لیگ کی نجکاری میں ناکام

اگر چھ میں سے پانچ ریاستیں منصوبے کی حمایت کرتیں تو نجکاری کا عمل آگے بڑھا دیا جاتا، کرکٹ آسڑیلیا

کرکٹ آسٹریلیا کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب بگ بیش لیگ کی جزوی نجکاری کا منصوبہ ریاستی کرکٹ بورڈز کی مخالفت کے باعث عارضی طور پر روک دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق منصوبے کے تحت ہر فرنچائز میں 49 فیصد تک نجی سرمایہ کاری لانے کی تجویز دی گئی تھی جس کے تحت ہر ٹیم کی مالیت تقریباً 200 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی تھی۔ تاہم نیو ساؤتھ ویلز کرکٹ اور کوئنز لینڈ کرکٹ نے اس منصوبے کی مخالفت کر دی، جس کے بعد معاملہ پیچیدہ ہو گیا۔

دوسری جانب وکٹوریہ کرکٹ ایسوسی ایشن، مغربی آسٹریلیا کرکٹ ایسوسی ایشن اور تسمانیہ کرکٹ ایسوسی ایشن نے نجکاری کے منصوبے کی حمایت کی ہے جبکہ جنوبی آسٹریلیا کرکٹ ایسوسی ایشن نے جزوی طور پر حمایت کا عندیہ دیا ہے لیکن اپنی ٹیم ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز پر کنٹرول برقرار رکھنے کا خواہشمند ہے۔

اس اختلاف کے باعث بگ بیش لیگ کے مستقبل، خصوصاً 2027-28 سیزن کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے کہا کہ اگر چھ میں سے پانچ ریاستیں منصوبے کی حمایت کرتیں تو نجکاری کا عمل آگے بڑھا دیا جاتا تاہم اب مختلف ماڈلز پر غور کیا جا رہا ہے جن میں کچھ ریاستیں فوری طور پر نجی سرمایہ لے سکتی ہیں اور باقی بعد میں شامل ہوں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ کرکٹ کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے نجی سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے تاہم اس عمل کا فائدہ پورے کھیل کو ہونا چاہیے۔

بگ بیش لیگ کی ممکنہ نجکاری کے ساتھ ساتھ یہ بھی زیر غور ہے کہ سرمایہ کار ٹیموں کے رنگ، برانڈنگ اور شناخت میں تبدیلی کا مطالبہ کر سکتے ہیں جو آسٹریلوی کرکٹ میں ایک بڑا ثقافتی تبدیلی کا اشارہ ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اس تنازع نے آسٹریلوی ٹی20 لیگ کے مستقبل کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مالی فائدے اور روایتی کرکٹ ڈھانچے کے درمیان کشمکش واضح ہو رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں