ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو مشرق وسطیٰ اور اسرائیل ختم ہوجاتے، ڈونلڈ ٹرمپ
ایران اب کمزور ہوچکا ہے اور اس کے پاس کوئی موقع باقی نہیں رہا، امریکی صدر
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی اور مشرق وسطیٰ سمیت اسرائیل بھی ختم ہوجاتا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب کمزور ہوچکا ہے اور اس کے پاس کوئی موقع باقی نہیں رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنی تاریخ کے سنہری دور میں داخل ہوچکا ہے جب کہ ایران خود بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ اس کے پاس اب کوئی چانس نہیں رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی فضائیہ، بحریہ اور قیادت کمزور ہوچکی ہے جب کہ ایرانی بحریہ کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے اور اس کے تمام جہاز تباہ کردیے گئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اگر ایسا ہوا تو دنیا ایک بڑی تباہی سے دوچار ہوجائے گی۔ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی اور مشرق وسطیٰ سمیت اسرائیل بھی ختم ہوجاتا۔
امریکی صدر کہتے ہیں کہ اگر بی ٹو بمبار طیارے استعمال نہ کیے جاتے تو ایران دو ہفتوں میں ایٹمی طاقت بن جاتا تاہم امریکا نے بروقت کارروائی کرکے اس خطرے کو ٹال دیا۔
اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے علاوہ کوئی بھی رہنما 8 جنگیں ختم کرانے میں کامیاب نہیں ہوا اور انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو بھی ختم کرانے میں کردار ادا کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے انہیں امن کے نوبیل انعام کا حقدار نہ قرار دینا ناانصافی ہے کیونکہ انہوں نے عالمی امن کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔




