کراچی: اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے بین الصوبائی منشیات گروپ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو کچھ دیر میں سنایا جائے گا۔
سٹی کورٹ میں منشیات گروہ کی مبینہ سرغنہ انمول عرف پنکی کو اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں کیس کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی۔
پولیس کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کو 6 مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے جب کہ تھانہ گزری میں اس کے خلاف 2021 اور 2022 کے دوران مجموعی طور پر 6 مقدمات درج ہیں۔
پولیس ملزمہ کو ریمانڈ کے لیے عدالت میں لے کر پہنچی جہاں گزری پولیس بھی مزید ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے موجود تھی۔
ملزمہ کو عبایا پہنا کر بھاری پولیس نفری کے ہمراہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت کے احاطے میں شور شرابہ اور کشیدگی کی صورتحال بھی دیکھی گئی۔
پیشی کے دوران ملزمہ انمول عرف پنکی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ میرے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے اور پولیس زبردستی بیان دلوانے کی کوشش کر رہی ہے، میرے قبضے سے کوکین برآمد نہیں ہوئی اور مجھے جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جا رہا ہے۔
ملزمہ نے مزید کہا کہ مجھے لاہور سے گرفتار کیا گیا، 20 دن تک حراست میں رکھا گیا اور اس دوران مجھ پر دباؤ ڈالا گیا کہ میں مخصوص افراد کے نام لوں، مجھے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر بیان نہ دیا گیا تو میری فیملی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔
عدالت میں دورانِ سماعت لیڈی کانسٹیبل نے ملزمہ کو خاموش رہنے کی ہدایت کی جب کہ جج نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں ہراسانی نہیں کی جائے گی، اس موقع پر ملزمہ کو پانی بھی پلایا گیا۔
ملزمہ نے الزام لگایا کہ میرے خلاف 20 سے 25 مقدمات بنائے جارہے ہیں اور مجھ پر دباؤ ڈال کر اعترافی بیان لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عدالت نے ملزمہ سے استفسار کیا کہ آپ کا کیا نام ہے جس پر اس نے جواب دیا کہ میرا نام انمول ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مزید 11 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور ملزمہ کی نشاندہی پر منشیات بھی برآمد کی گئی ہے۔
پولیس نے مزید ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ طویل عرصے بعد گرفتار ہوئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ اب تک کیا تفتیش کی گئی ہے اور پرانے عدالتی آرڈرز بھی طلب کر لیے گئے ہیں۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ تین کیسز ہیں معزز عدالت کو صیح طرح سمجھا نہیں سکا، ملزمہ آج تک نہیں پکڑی گئی بہت عرصے سے کام کررہی ہے، یونیورسٹیوں میں نسلیں تباہ کردی گئی ہیں ، آٹھ سو نمبر ملے ہیں جن کو منشیات سپلائی کررہی تھی، اس نے اپنا برانڈ بنایا ہوا ہے کہتی ہے کوئی ایک دفعہ پی لے کوئی اور برانڈ نہیں پی سکتا ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کے گینگ میں غیر ملکی بھی شامل ہیں، پنجاب سے آکر بچوں کو تباہ کررہے ہیں، ایک لاش ملی ہے جس کے موبائل سے انکا نمبر ملا ہے، کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے، انکا شناختی کارڈ بلاک ہے سادہ لوگوں کے ناموں پر نمبر نکلوا کر استعمال کررہے ہیں، دو دیگر ملزمان کو گرفتار کیا ہے انکو بھی پیش کریں گے ابھی ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرنا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمہ کے بھائی کے خلاف بھی 6 مقدمات پہلے سے درج ہیں، جبکہ چھوٹا بھائی لاہور میں مبینہ طور پر منشیات کا نیٹ ورک چلا رہا ہے، مزید سہولت کاروں کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔




