1

پنکی نیٹ ورک؛ تحقیقاتی حکام نے رائیڈرز اور کیریئرز کا ڈیٹا مرتب کرلیا

پنکی نیٹ ورک؛ تحقیقاتی حکام نے رائیڈرز اور کیریئرز کا ڈیٹا مرتب کرلیا

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نیٹ ورک کے کیریئرز میں تین خواتین بھی شامل تھیں۔

کراچی: پنکی نیٹ ورک کے حوالے سے تحقیقاتی حکام نے رائیڈرز اور کیریئرز کا ڈیٹا مرتب کرلیا ہے۔

تحقیقاتی حکام نے کراچی میں سرگرم مبینہ ’’پنکی نیٹ ورک‘‘ سے متعلق اہم تفصیلات حاصل کرلیں جس کے تحت مختلف شہروں سے آنے والے رائیڈرز اور کیریئرز کے ذریعے منشیات شہر بھر میں سپلائی کی جاتی تھی جب کہ نیٹ ورک میں خواتین سمیت متعدد افراد شامل تھے۔

تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ منشیات کی ترسیل کے لئے تین ہینڈلرز اور بائیس کیریئرز پر مشتمل منظم جال قائم کیا گیا تھا جب کہ ہینڈلرز سے کیریئرز اور پھر رائیڈرز کے ذریعے گاہکوں تک منشیات پہنچائی جاتی تھی۔

ذرائع کے مطابق حمزہ، عداس اور عاقب پنکی کے کراچی میں مرکزی ہینڈلرز تھے جب کہ ان ہینڈلرز کے ساتھ رابطے پنکی کے بھائی شوکت کے ذریعے کیے جاتے تھے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نیٹ ورک کے کیریئرز میں تین خواتین بھی شامل تھیں جن میں صبا اور انعم عرف انا کے نام شامل ہیں۔ حمزہ کو 70 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا تھا۔

تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ لاہور سے آنے والی منشیات کو انمول عرف پنکی کا بھائی ناصر مختلف کیمیکلز ملاکر تیار کرتا تھا جس کے بعد اسے کراچی سمیت دیگر علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پنکی نیٹ ورک کے آٹھ رائیڈرز لاہور، فیصل آباد اور وہاڑی سے کراچی آکر منشیات کی ڈیلیوری کا کام انجام دیتے تھے جب کہ حکام نے نیٹ ورک سے جڑے افراد کا مکمل ڈیٹا مرتب کرلیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں