ایک نئی جائزہ شدہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ طلبہ جو مصنوعی ذہانت کے ٹولز جیسے چیٹ جی پی ٹی، کلاؤڈ اور جیمینی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں وہ قلیل مدتی کارکردگی تو بہتر بنا سکتے ہیں لیکن طویل مدت میں یادداشت کے نقصان اور کمزور ذہنی صحت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
یہ تحقیق جریدے سوشل سائنسزاینڈ ہیومینیٹزاوپن میں شائع ہوئی جس میں یہ جائزہ لیا گیا کہ اے آئی کی غیر محدود رسائی طلبہ کے سیکھنے کے نتائج کو کیسے متاثر کرتی ہے۔
ایک تجربے میں 120 طلبہ کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ایک گروپ کو چیٹ جی پی ٹی بطور مطالعہ معاون استعمال کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو روایتی طریقوں تک محدود رکھا گیا۔
مطالعہ مکمل ہونے کے بعد 45 دن بعد اچانک یادداشت کا ٹیسٹ لیا گیا۔
نتائج حیران کن تھے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے طلبہ کا اوسط اسکور 57.5 فیصد رہا جبکہ بغیر اے آئی کے مطالعہ کرنے والے طلبہ نے 68.5 فیصد حاصل کیے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی ٹولز سیکھنے کے دوران ذہنی محنت کو کم کر دیتے ہیں جس سے طویل مدتی یادداشت کمزور ہو جاتی ہے۔
محققین اس رجحان کو کاگنیٹیو آف لوڈنگ کہتے ہیں، جس میں لوگ سوچنے کے عمل کو بیرونی ذرائع کے حوالے کر دیتے ہیں بجائے اس کے کہ خود ذہنی مشق کریں۔
اگرچہ اے آئی پڑھائی کو کسی قدر تیز اور آسان بناتا ہے، لیکن یہ وہ ذہنی جدوجہد کم کر دیتا ہے جو عام طور پر گہری سمجھ اور مضبوط یادداشت پیدا کرتی ہے۔
تحقیق کے مطابق سیکھنے میں مشکل اور محنت دراصل فائدہ مند ہوتی ہے کیونکہ یہی عمل یادداشت کو مضبوط بناتا ہے۔ جب اے آئی فوراً جواب فراہم کر دیتا ہے تو طلبہ وقتی طور پر سمجھ تو لیتے ہیں مگر معلومات کو دیر تک یاد نہیں رکھ پاتے۔
تحقیق یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ چیٹ جی پی ٹی ذہانت یا تخلیقی صلاحیت کو مستقل طور پر نقصان پہنچاتا ہے بلکہ یہ خبردار کرتی ہے کہ اے آئی کا غیر محدود استعمال انحصار پیدا کر سکتا ہے، جسے “ذہنی سہارا” کہا جا سکتا ہے۔
محققین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے سیکھنے کا انداز یاد رکھنے کے بجائے صرف معلومات تلاش کرنے تک محدود ہو سکتا ہے۔
یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تعلیمی اداروں میں اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے شامل کی جا رہی ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسے تعلیم میں کس طرح استعمال کیا جائے تاکہ سیکھنے کے معیار پر منفی اثر نہ پڑے۔
تحقیق کے مطابق اے آئی کا محدود اور منظم استعمال طلبہ کو فائدہ دے سکتا ہے جبکہ تنقیدی سوچ کو بھی برقرار رکھ سکتا ہے۔




