چین کا خلا میں دھاتی تھری ڈی پرنٹنگ کا کامیاب تجربہ
اس مشین نے لیزر وائر فیڈ کے عمل کو استعمال کرتے ہوئے نہایت استحکام اور ہمواری کے ساتھ دھات کی تہیں جما کر نمونہ تیار کیا
چینی تحقیقی اداروں نے حال ہی میں خلائی مدار میں دھاتی تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا ہے جس کے بعد اب خلا میں ہی مشینی پرزہ جات کی تیاری اور مرمت کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چائنیزاکیڈمی آف سائنسز(سی اے ایس) کے تحت کام کرنے والے انسٹی ٹیوٹ آف میکینکس نے انوویشن اکیڈمی فارمائیکرو سیٹلائٹس کے تعاون سے یہ تجربہ انجام دیا۔ یہ مظاہرہ حال ہی میں لانچ کیے گئے چھنگ ژونامی کار گوخلائی جہاز میں کیا گیا۔
تجربے کے دوران چھنگ ژو خلائی جہاز پرنصب تھری ڈی پرنٹنگ مشین نے زمین سے ملنے والی کمانڈز پر خود کار طریقے سے کام شروع کیا۔ اس مشین نے لیزر وائر فیڈ کے عمل کو استعمال کرتے ہوئے نہایت استحکام اور ہمواری کے ساتھ دھات کی تہیں جما کر نمونہ تیار کیا جس سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے مشین کو بار بار چلانے اور روکنے کی صلاحیت کی بھی تصدیق ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے از خود سیکھنے والا اے آئی ماڈل تیار کرلیا
اس کامیاب تجربے کے دوران کئی بنیادی صلاحیتوں کا بھی امتحان لیا گیا جن میں خلائی جہاز کے پلیٹ فارم کے ساتھ پے لوڈ کی مطابقت، مکمل طور خود کار آپریشن کا اجراء، ڈیٹا اور تصاویر کی ترسیل اور خلائی ماحول میں دھات کو پگھلا کر جمانے کا عمل شامل تھا۔
اس ٹیکنالوجی سے توقع ہے کہ روایتی خلائی مشین کے ماڈل ’’جو درکارہو ساتھ لے جائیں‘‘ کو بدل کر جو درکار ہو وہی تیار کریں میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔
مستقبل میں اسے مدار میں تیاری اور مرمت، خلائی تنصیبات کے لیے فاضل پرزہ جات کی پیداوار، ساختی اجزاء کی مرمت اور گہرے خلائی مشنز کے لیے خودکار معاونت جیسے شعبوں میں استعمال کیا جاسکے گا۔




