ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی جانب سے ایران کو مشتبہ سامان بھیجنے کا الزام عائد کردیا
ممکنہ طور پر چین کی جانب سے ایران کے لیے ’’تحائف‘‘ بھیجے جارہے تھے، امریکی صدر
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این بی سی کو انٹریو دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز ایک جہاز پکڑا گیا جس میں مشتبہ سامان موجود تھا، ممکنہ طور پر چین کی جانب سے ایران کے لیے ’’تحائف‘‘ بھیجے جارہے تھے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگا۔ معاہدہ ایران کو دوبارہ طاقتور بناسکتا ہے اور امریکا مذاکرات کے لیے بہترین پوزیشن میں ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے بحری بیڑے اور فضائیہ کو تباہ کردیا ہے اور اس کے کمانڈر بھی نہیں رہے۔ ایران کی ناکہ بندی بہت کامیاب رہی اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگ بندی ختم ہونے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے اور سیز فائر میں توسیع نہیں ہوگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے متعدد مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا مسئلے کے فوجی حل کے لیے بھی تیار ہے اور ایران کے خلاف ملٹری آپریشن دوبارہ شروع کرسکتا ہے۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو کیا دوبارہ بمباری شروع ہوگی؟ ٹرمپ نے جواب دیا ’’ہاں، میرا خیال ہے کہ پھر بمباری ہوگی، ایک یا دو دن میں معاہدہ نہ ہوا تو دوبارہ بمباری کریں گے۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اور امریکی فوج ایران کے خلاف فوجی مداخلت کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکا نے ایران کو تہس نہس کردیا اور اس میں صرف 13 امریکی مارے گئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں لیکن یہ حقیقت ہے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ گزشتہ روز امریکا نے ایک جہاز کو تحویل میں لیا۔ اس جہاز میں مشتبہ سامان تھا، ممکنہ طور پر چین کی جانب سے ایران کے لیے ’’تحائف‘‘ بھیجے جارہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ چینی صدر سے اچھی انڈرسٹینڈنگ ہے لیکن جنگ میں سب چلتا ہے۔ ایران اس وقت جس نہج پر ہے اسے معاہدہ کرنا ہی پڑے گا، اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جلد بڑا معاہدہ طے پاجائے گا اور وہ بہترین ڈیل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ مجھے کم عقل اور غداروں کی پرواہ نہیں، وینزویلا پر 45 منٹ میں قبضہ کرلیا تھا۔




