1

امریکا کو ایرانی عوام کے حقوق ماننا ہوں گے، باقر قالیباف کا دوٹوک پیغام

امریکا کو ایرانی عوام کے حقوق ماننا ہوں گے، باقر قالیباف کا دوٹوک پیغام

امریکا کے پاس ایرانی عوام کے حقوق تسلیم کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس ایرانی عوام کے حقوق تسلیم کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ 14 نکاتی تجویز میں ایرانی عوام کے حقوق واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں اور انہیں تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اختیار کی جانے والی کوئی بھی حکمت عملی ناکامی سے دوچار ہوگی اور اس کا نتیجہ مسلسل شکست کی صورت میں نکلے گا۔

محمد باقر قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا جتنی زیادہ تاخیر کرے گا، اس کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑے گی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی ٹیم کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ایران سے متعلق آئندہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ’’وینٹی لیٹر پر‘‘ ہے اور انہوں نے ابھی ’’پراجیکٹ فریڈم‘‘ دوبارہ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

امریکی صدر کے مطابق ایران کی نئی تجاویز ’’احمقانہ‘‘ ہیں، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تاہم معاہدے کا امکان موجود ہے اور معاہدہ ہونے تک تہران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے نام نہاد نمائندوں کا جواب انہیں پسند نہیں آیا، سخت گیر قیادت کو جھکنے پر مجبور کریں گے جبکہ ایران نے اپنے خط میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کا ذکر بھی نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں