کراچی کا ٹریفک بے قابو؛ 112 دنوں میں 322 افراد جاں بحق، 3 ہزار سے زائد زخمی
شہر میں ہیوی ٹریفک سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہورہی ہے۔
کراچی: شہرِ قائد میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد نے خطرناک صورتحال اختیار کرلی ہے جہاں صرف 112 دنوں کے دوران 322 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 3 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق شہر میں ہیوی ٹریفک سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہورہی ہے اور بھاری گاڑیوں کی زد میں آکر 111 شہری جاں بحق ہوئے جس نے ٹریفک نظام کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھادیے ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں 234 مرد شامل ہیں جب کہ 44 خواتین اور 44 بچے بھی حادثات کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہار گئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سڑکیں کسی کے لیے محفوظ نہیں رہیں۔
ٹریلرز کی تیز رفتاری کے باعث 52 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ واٹر ٹینکرز نے 30 شہریوں کی جان لے لی۔ اسی طرح بسوں اور مزدا گاڑیوں کی ٹکر سے 12، 12 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ ایک ڈمپر کی ٹکر سے 5 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
شہر میں ٹریفک قوانین کی مسلسل خلاف ورزی، اوور اسپیڈنگ اور نگرانی کے مؤثر نظام کی کمی ان حادثات کی بڑی وجوہات قرار دی جارہی ہیں جس کے باعث شہریوں میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا بڑھتی جارہی ہے۔
شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت کو محدود کیا جائے اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے۔




